ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 20

ذریعہ سے قدیم زمانہ سے چلا آتا ہے۔مثال کے طور پر ہم ویدوں کو لیتے ہیں۔ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اور شریعت کے عالم بالا سے نازل ہونے کا خیال بہت پرانا ہے۔آسٹریلیا کے وحشی قبائل دنیا کی قدیم ترین حالت کے نمائندے ہیں ان سے جب پوچھا جائے کہ وہ کیوں بعض رسوم کی پابندی کرتے ہیں تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ نر ٹیڈ ٹر نے ان کو ایسا ہی حکم دیا ہے یعنی خدا نے۔امریکہ کے پرانے قبائل میں بھی یہ خیال موجود ہے کہ ان کے قوانین الہام کے ذریعہ سے بنے ہیں۔یہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ تدریجی ترقی سے یہ خیالات پیدا نہیں ہوئے بلکہ کسی ایک شخص کی معرفت جو اپنے آپ کو لہم قرار دیتا تھا مختلف قبائل میں پھیلے۔لوگ ان اشخاص کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں، فریبی کہہ سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خیالات تدریجی ترقی کا نتیجہ تھے در نہ یہ روایات قدیم وحشی قبائل میں نہ پائی جاتیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ آثار قدیمہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی قومیں جن میں اب مشرکانہ خیالات ہیں ابتداء میں ان میں ایک خدا کی پرستش تھی۔چنانچہ میگز ایک محقق ہے اس نے چین کے متعلق تحقیقات کی ہے کہ گو وہاں ہر چیز کا الگ خدا مانتے ہیں آگ کا خدا، چولہے کا خدا، توے کا خدا غرضیکہ ہر چیز کا خدا الگ الگ ہے گویا ہندوستان سے بھی بڑھ کر شرک ہے کہ جہاں صرف ۳۳ کروڑ دیوتا سمجھا جاتا ہے لیکن پرانے زمانہ میں وہاں ایک ہی خدا کی پرستش کی جاتی تھی۔اسی طرح بابل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔بابل وہ شہر ہے جسے ہمارے ملک کے بچے بھی جانتے ہیں اور ہاروت ماروت کے قصے کی