ہستی باری تعالیٰ — Page 227
۲۲۷ برداشت کر لیا کیونکہ آپ کا وہ اصل مقام تھا۔لیکن اگر یہ معنے بھی نہ کئے جائیں تب بھی رؤیت کا امکان ثابت ہے کیونکہ منکرین رؤیت مانتے ہیں کہ موسی کو خدا کی رؤیت سے غش آ گیا تھا تو ہم کہتے ہیں تم تو کہتے ہو رؤیت ناممکن ہے پھر ناممکن کو دیکھنے کا کیا مطلب؟ دیکھو یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ سورج کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علم کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں پس یغش والا لفظ بتاتا ہے کہ کوئی ایسی چیز تھی جسے انہوں نے دیکھا اور جب انہوں نے کچھ دیکھا تھا گو اس سے بیہوش ہی ہو گئے ہوں مگر یہ تو معلوم ہو گیا کہ اس کا دیکھنا انسانی طاقت میں ہے۔پھر ہم کہتے ہیں اس آیت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ پر تعلی کی محفلی تو جبل پر کی ہے۔پس جب خدا تعالی کی تخیلی اونی مخلوق پر آسکتی ہے اور وہ برداشت کر سکتی ہے تو انسان جو اعلیٰ مخلوق ہے اس پر کیوں نہ آئی اگر کہو کہ پہاڑ میں جو مخفی طاقتیں تھیں ان میں خدا ظاہر ہو ا تو پھر حضرت موسیٰ نے اس تجلی کو دیکھا کس طرح ؟ اگر کہا جائے کہ حضرت موسی زلزلہ سے ڈر گئے تھے تو ہم پوچھتے ہیں کیا مؤمن اور خاص کر نبی ایسے ہی بُز دل ہوتے ہیں اور اگر یہی بات تھی تو انہوں نے بیہوشی سے اُٹھ کر یہ کیوں کہا کہ انا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ وہ کس چیز پر ایمان لائے تھے؟ کیا اس بات پر کہ میں زلزلہ دیکھ کر ڈر گیا تھا۔ان الفاظ کا یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں اس رسول پر جس پر تیری اس شان سے جلی ہونے والی ہے سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسی کی نسبت آیا بھی ہے کہ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ