ہستی باری تعالیٰ — Page 226
۲۲۶ پس جب وہ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ جلوہ الہی ہے اور کہا گیا کہ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ یعنی دنیاوی تعلقات چھوڑ دو۔پس جب وہ وہاں جلوہ الہی دیکھ کر آئے تھے تو انہیں شک ہی کس طرح ہوسکتا تھا کہ رؤیت ہوسکتی ہے یا نہیں اور اگر کہا جائے کہ طور پر ان کی مراد رؤیت سے ذات کی رؤیت سے تھی تو یہ حضرت موسی" پر اتہام ہوگا کیونکہ وہ شخص جو فرعون سے لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کے وراء الوریٰ ہونے پر بحث کرتا رہا ہے کیا ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی ذات کی حقیقی رؤیت کرنا چاہتا ہوں۔ایسا سوال تو پاگل کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔حضرت موسیٰ نے کس رؤیت کیلئے سوال کیا؟ اس پر سوال ہوتا ہے کہ پھر انہوں نے رؤیت کے لئے سوال کیوں کیا ؟ اگر کہا جائے کہ جس طرح اچھی چیز کو انسان بار بار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح انہوں نے کیا تو کہتے ہیں کہ پھر یہاں کیوں بیہوش ہو گئے؟ پہلی دفعہ کیوں بیہوش نہ ہوئے تھے؟ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت موسی کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرا مثیل ہو کر مگر تجھ سے بہت اعلیٰ شان میں آئے گا اس خبر کو معلوم کر کے حضرت موسی کے دل میں طبعا یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دیکھوں تو سہی اس پر خدا تعالیٰ کا کس رنگ میں جلوہ ہوگا اور انہوں نے خواہش کی کہ مجھے بھی جلوہ محمدی دکھایا جائے میں بھی تو دیکھوں کہ اس وقت آپ کس شان سے ظاہر ہوں گے؟ خدا تعالیٰ نے فرمایا تو اس کے جلوہ کو برداشت نہیں کر سکے گا چنانچہ خدا تعالیٰ نے انکی خواہش تو پوری کر دی مگر وہ اسے برداشت نہ کر سکے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جلوہ کو