ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 228

۲۲۸ وہ تو ایمان لے آیا مگر تم نے تکبر کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی وجہ سے فرماتے ہیں کہ لَوْ كَانَ مُوسى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا إِتَّبَاعِي (اليواقيت والجواهر جلد نمبر ۲ صفحہ ۲۲) کہ اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا۔حضرت موسیٰ کی توبہ اور اگر کہا جائے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے تو حضرت موسیٰ کے تو بہ کرنے کے کیا معنے ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو معنے تم کرتے ہو اس پر بھی یہی اعتراض پڑتا ہے کیونکہ اگر اس کے معنی گناہ سے تو بہ کرنے کے ہیں تو انہوں نے کیا گناہ کیا تھا؟ اگر نظارہ کے دیکھنے کی درخواست کرنا گناہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی وقت ڈانٹ دیتا جس طرح حضرت نوح نے جب اپنے بیٹے کے لئے دُعا کی تو خدا تعالیٰ نے ان کو روک دیا۔تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی منع فرما دیتا کہ ایسی بات مت کہو نہ یہ کہ جس طرح انہوں نے چاہا اسی طرح کرنے لگ جاتا۔پس تُبت اليك کے معنے گناہ سے تو بہ کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اسے تمام صفات کے جامع خدا تیرا اتنا بڑا درجہ ہے کہ میں تیری طرف جھکتا ہوں اور اس رسول کا اول مؤمن ہوں۔بعض احادیث کا مطلب رؤیت الہی کے منکر یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ (عز وجل) حَتَّى يَمُوت کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کو نہ دیکھے گا جب تک مرنہ مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۴۳۳