ہستی باری تعالیٰ — Page 216
۲۱۶ سے روک لی جائے تو یہ نہیں کیا جائے گا کہ دوسری صفات رحمت کو بھی اس سے روک دیا جائے۔وہ پہلے کی طرح اس شخص کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں فائدہ پہنچاتی رہیں گی۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل انسانی افعال سے بالکل مختلف ہے۔کسی انسان کا کوئی نوکر جس کو اس نے ہزار روپیہ خرچ کرنے کے لئے دیا ہو اس میں کچھ خیانت کرلے تو وہ اس کو نوکری سے ہٹا دے گا پھر اسی پر بس نہ کرے گا بلکہ اس سے بولنا بھی ترک کر دے گا اور سارے تعلقات قطع کر لے گا۔اس کے برخلاف خدا تعالیٰ کسی گناہ کی وجہ سے کسی صفت رحمت کو روک لیتا ہے تو باقی رحمت کی صفات کو بند نہیں کر دیتا بلکہ ان کو بھی جاری رکھتا ہے۔مثلاً نبی کے مخالفوں کے متعلق ادھر تو صفت شدید الانتقام جاری ہوگی کہ جو اس کا شدید مخالف ہے اسے مار دو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت ستاری بھی اپنا عمل کر رہی ہوگی۔اس کے دل میں جو کچھ گند ہوتا ہے اس کو ظاہر نہیں کیا جائے گا لوگوں کو اس کے پوشیدہ در پوشیدہ گناہ نہیں بتلائے جائیں گے۔اگر بیماری کا حکم ہوا ہے تو جائدادیں برابر محفوظ رہیں گی رزق ملتا رہے گا پھر مرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی محی کی صفت جاری ہوگی اس کو زندہ کیا جائے گا اور اصلاح کی صفت جاری ہوگی جہنم کے علاج کے ذریعہ سے اس کی روحانی بیمارویوں کو دور کیا جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ کی صفات کے جاری ہونے کا اور قاعدہ ہے۔ہمارا تو یہ حال ہوتا ہے کہ اگر کسی سے محبت ہوئی تو ہر رنگ میں محبت ہی کی جاتی ہے اور اگر ناراضگی ہوئی تو ہر رنگ میں ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ اگر اپنی ایک صفت کو انسان کی کسی غلطی سے روکتا ہے تو باقی صفات کو جاری رکھتا ہے۔غرض خدا کی صفات کا دائرہ مقرر ہے اور وہ اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتی ہیں اور ان میں رخمینی وسعت كل منی کا نظارہ نظر آتا ہے۔مثلاً ایک کافر ہے جو اچھا بھلا ہے۔اس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسے