ہستی باری تعالیٰ — Page 217
۲۱۷ پاگل کر دو اور اسے پاگل کر دیا جاتا ہے۔اگر ہمارا اتنا اختیار ہو تو ایسے شخص کا گلا ہی گھونٹ دیں اور اسے مار دیں مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت شدید العقاب کہہ رہی ہوتی ہے کہ اسے پاگل کر دو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت رزاقی کہہ رہی ہوتی ہے کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس کو رزق دو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی اور صفات بھی جاری ہوتی ہیں۔خدا کی صفات کے متعلق ایک اور متانون دوسرے خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے لئے یہ بھی قانون ہے کہ وہ اس قانون کی تائید کرتی ہیں جو قانونِ قدرت کہلاتا ہے اس قانون کے ماتحت انسان کے اعمال یا دُنیا کے تغیرات جو رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔گویا اس طرح وہ انسانی اعمال یا طبعی تغیرات کی مددگار ہو جاتی ہیں جیسا جیسا عمل ہواس کے مطابق نتیجہ نکلتا چلا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اس قاعدے کے متعلق فرمایا ہے کہ حلا تمد هُؤُلَاءِ وَهُؤُلاءِ (بنی اسرائیل : ۲۱) ہر شخص جس قسم کی کوشش کرتا ہے اس کے مطابق ہم قطع نظر اس کے کہ وہ مومن ہے کہ کافر نتائج نکالتے رہتے ہیں۔خدا کی صفات کے دو چگر تیسرا قاعدہ ظہور صفات کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دو دائروں میں کام کرتی ہیں جس طرح زمین کی دوحرکتیں ہیں ایک اپنے اردگرد اور ایک سورج کے گرد اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک تو ایسا اثر ہے جو ہر وقت ہوتا رہتا ہے سوائے اس کے کہ احدیت کے مقابلہ میں آئے اگر اس کے مقابلہ میں آئے تو فورا بند ہو جاتا ہے۔