ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 215

۲۱۵ خدا کی صفت رحمت کی وسعت یہ وسعت کئی طریق پر ہوتی ہے ایک تو اس طرح کہ انسان گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔کئی قسم کی بد پر ہیزیاں انسان کرتا ہے مگر اکثر ان کے نتائج سے بچ جاتا ہے اور کبھی پھنس بھی جاتا ہے۔دوسرے اس طرح کہ خدا تعالی گناہوں کی سزا میں جس کا وہ کسی وجہ سے مستحق ہوتا ہے کمی کر دیتا ہے اور جس قدر سزا دی جاتی ہے اس میں بھی رحمت غالب رہتی ہے تو سز ا جو شدید العقاب صفت کے ماتحت ہوتی ہے اس پر بھی رحمت ہی محیط ہے گویا سب سے بڑا دائرہ رحمت کا ہے اور اس کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ سزا بالکل معاف کرا دیتی ہے۔دوسرا یہ کہ سزا کم کرا دیتی ہے اور تیسرا یہ ہے کہ اگر سزا ملے تو آخر میں بند کرا دے گی۔جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن دوزخ میں سے سب لوگ نکال لئے جائیں گے اور ہوا دوزخ کے دروازے کھٹکھٹائے گی دوسرے اس صفت کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ گناہوں سے بچنے کے سامان پیدا کرتا رہتا ہے، نبی بھیجتا ہے، مجد د آتے ہیں، مأمور مقرر ہوتے ہیں اور پھر مشکلات اور مصائب آتے ہیں تاکہ بندہ کی توجہ خدا کی طرف پھیریں۔چوتھے اس طرح کہ جب خدا تعالیٰ کسی کے متعلق کسی سزا کا حکم دیتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی دوسری صفات رحمت نہیں روکی جاتیں بلکہ مختلف صفات اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتی رہتی ہیں۔ایک دوسری کے راستہ میں روک نہیں ہوتی۔مثلاً اگر کسی پر خدا تعالے کی ناراضگی ہو اور جس رنگ کا اس نے قصور کیا ہے اس کے مطابق کوئی صفت رحمت اس کنز العمال جلد نمبر ۱۴ صفحه ۵۲۷ روایت نمبر ۳۹۵۰۶ الطبعة الاولى مطبعة الغربية حلب هكاء