ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 14

۱۴ تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے بالکل ابتدائی زمانہ میں بھی اس رنگ میں پیش کیا جا سکتا تھا کہ انسان محسوس کرے کہ خدا تعالیٰ کا وجود دوسری اشیاء سے جو مخلوق ہیں بالکل الگ تھلگ ہے پس ہمیں اور قسم کے جوابوں کی ضرورت ہے۔میرے نزدیک اس اعتراض کا حقیقی جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے؟ اگر ہم اس اعتراض کی حقیقت پر غور کریں تو پہلے اس کے مندرجہ ذیل اجزاء معلوم ہوتے ہیں۔ا۔خدا تعالیٰ کا خیال ڈر اور حیرت سے پیدا ہوا ہے۔۲۔اس میں تدریجی ترقی ہوئی ہے۔اب اگر یہ دونوں باتیں صحیح ہیں تو خدا تعالیٰ کے متعلق جو خیال بنی نوع انسان میں پیدا ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ سب سے پہلے جن چیزوں کی عبادت شروع ہوئی ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن سے سب سے پہلے بنی نوع انسان کو خوف پیدا ہوسکتا تھا۔اب اگر ذرا بھی تدبر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلے انسان کو خوف درندوں سے ہو سکتا تھا کیونکہ جس وقت انسان کے پاس حفاظت کا پورا سامان نہ تھا اور آبادیوں کا دستور نہ شروع ہوا تھا سب سے زیادہ خطرہ درندوں سے ہی ہو سکتا تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ درندوں کی پرستش کیڑوں کی پرستش سے بہت کم ہے۔زیادہ تر سانپ کے پجاری ملتے ہیں۔شیروں اور بھیڑیوں کی پوجا سانپ سے بہت کم ہوتی ہے حالانکہ سانپ چھپ کر حملہ کرتا ہے اور شیر ظاہر میں اور شیر کی آواز ہے اور سانپ کی نہیں۔اور شیر کا جسم بڑا ہے اور سانپ کا نہیں۔اور بھیڑیے کا حال بھی شیر کی طرح کا ہے۔پس اگر تدریجی ترقی ہوتی تو سب سے پہلے شیر اور بھیڑیے اور ریچھ وغیرہ کی پرستش ہوتی مگر ان کی پرستش اس کثرت سے اور اس قدر پرانی نہیں ہے جس قدر کہ سانپ کی