ہستی باری تعالیٰ — Page 13
شروع سے ہی خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت مکمل اور صحیح عقیدہ دنیا میں موجود ہونا چاہئے تھا۔یہ اعتراض واقع میں قابل غور ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔جن اقوام نے الہام کی تعریف کو موجودہ زمانہ کے اعتراضات سے ڈر کر بدل دیا ہے انہوں نے تو اس اعتراض کا جواب نہایت آسانی سے دے دیا ہے اور وہ یہ کہ جس خیال کو تم نامکمل کہتے ہو اور جس تصویر کو تم ناقص کہتے ہو وہ بھی الہام کے ذریعہ سے تھی اور چونکہ دنیا کی ذہنی ترقی ابتداء میں کامل نہ تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کو تمثیلی رنگ میں بنی نوع انسان میں ظاہر کیا تھا اور چونکہ اصل چیز جس کی قدر کی جاسکتی ہے وہ تعلق ہے پس جو شخص بھی نیک نیتی سے سانپ یا بچھو یا ستاروں کو خدا سمجھ کر پوجتا ہے وہ در حقیقت خدا کو ہی پوجتا ہے اور وہ بھی اپنی عقل کے مطابق ایک الہام پر ہی عمل پیرا ہے۔پس اگر ابتداء میں خدا تعالیٰ کا خیال ناقص تھا تو اس کا موجب یہ نہ تھا کہ انسان کے دماغ نے اس خیال کو ڈر سے پیدا کیا بلکہ اس کا موجب یہ تھا کہ انسانی دماغ بوجہ ناقص ہونے کے خدا تعالیٰ کے خیال کو مکمل صورت میں اخذ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس کی طاقتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کا خیال اس کے دماغ پر نقش کیا گیا اور خدا تعالیٰ کا وجود اسے مختلف مظاہر کی صورت میں دکھایا گیا اور پھر یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کی ہر اک شے ایک بالا طاقت کی مظہر ہے؟ مجھے اس جواب کی صحت یا اس کے ستم پر اس وقت بحث کرنے کی ضرورت نہیں مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ جو لفظی الہام کے قائل ہیں یہ جواب منکرین خدا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے۔اگر الہام لفظوں میں نازل ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے تو خدا