ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 15

۱۵ ہے جس سے معلوم ہوا کہ خدا کے خیال کے تدریجا پیدا ہونے کا خیال ہی غلط ہے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ اعتراض تب ہی پڑ سکتا تھا جبکہ تسلیم کیا جائے کہ انسان اچانک دُنیا میں پیدا ہو گیا تھا اور اس وجہ سے اسے بعض چیزوں کو دیکھ کر حیرت اور خوف پیدا ہو ا مگر یہ عقیدہ رکھ کر تو فورا ایک پالا رادہ ہستی کو تسلیم کرنا ہو گا جس نے ارادہ کیا کہ انسان پیدا ہو اور وہ پیدا ہو گیا اور خود یہ عقیدہ ہی خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کر دے گا۔پس خدا تعالیٰ کے انکار کے ساتھ اس امر کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کی پیدائش بتدریج اور مختلف تغییرات سے ہوئی ہے اور اس قسم کے معترضین کا عقیدہ بھی یہی ہے۔اب اگر یہ بات درست ہے کہ انسان بتدریج مختلف حالتوں سے ترقی کرتا ہو ابنا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان بننے کی صورت میں اس نے چاند سورج ، ستاروں اور شیروں، بھیٹریوں اور سانپوں کو اچانک نہیں دیکھا۔بلکہ وہ اس سے پہلی حالت میں بھی ان چیزوں کو دیکھتا آیا ہے اور بعض کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے اور بعض کو قطعا نظر انداز کرتا آیا ہے۔پس اگر جبکہ انسان بندر یا اس سے بڑھ کر کسی اور جانور کی صورت میں سانپ سے خوب آشنا تھا بلکہ اس کا مقابلہ کیا کرتا تھا تو کیونکر ممکن ہے کہ جب وہ اس حالت سے ترقی کر جائے تو اسے پوجنے لگ جائے۔یہ چیز نئی نہ تھی بلکہ ایسی چیز تھی جس سے وہ نسلاً بعد نسل واقف چلا آیا تھا پس ارتقاء کا مسئلہ بھی اس خیال کو رڈ کر رہا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ خوف و حیرت سے خدا کا خیال پیدا ہوا تو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے چاند اور سورج کی پرستش شروع ہوتی کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو سب کو اور سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی پرستش ستارہ پرستی سے پہلے کی ہے۔حالانکہ سورج، چاند وغیرہ کو ہر شخص شروع سے ہی دیکھتا چلا آیا ہے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ پہلے