ہستی باری تعالیٰ — Page 150
۱۵۰ ہے اور سب کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں جو چاہے اس کے قرب کی تلاش کرے۔وہ نہیں چاہتا کہ انسان اور اس کے درمیان کوئی واسطہ بن کر کھڑا ہو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو بلکہ یہ چاہتا ہے کہ انسان خود اس کے سامنے آئے۔اب دیکھو کہ کوئی بادشاہ اپنی رعایا سے چاہے کہ وہ خود اس سے بات کریں مگر وہ دوسروں سے جا کر کہیں کہ تم ہمارا کام کر دو ہم بادشاہ کے پاس نہیں جاتے تو کیا وہ پسند کرے گا ؟ یہ خیال غلط ہے کہ بادشاہ سب سے تعلق نہیں رکھ سکتے آخر ان کے نائب مقرر ہوتے ہیں کیونکہ بادشاہ انسان ہوتا ہے اور اس کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں۔بادشاہ کے لئے سب سے تعلق رکھنا ممکن نہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت میں ہے کہ وہ سب سے براہ راست تعلق رکھے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی حجاب بنے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ وہ اس کا قرب حاصل کرے۔دیکھو تو حید پر ایمان لا کر انسان کی نظر کسقدر وسیع ہو جاتی ہے۔اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق براہ راست خدا تعالیٰ سے ہوا سے خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کسی شفیع کی ضرورت نہیں نہ کسی نبی کی نہ کسی ولی کی۔نبیوں کی اطاعت کی وجہ اس موقع پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو نبیوں کی اطاعت کیوں کی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اطاعت اور چیز ہے اور وسیلہ ڈھونڈنا اور شئے ہے۔اطاعت تو یہ ہے کہ جس رستے پر وہ چلتے ہیں ہم بھی اس راستہ پر چلیں یا متفقہ عمل کے لئے اس نظام کی