حقیقتِ نماز — Page 123
حقیقت نماز موت کو یاد رکھو۔یہی سب سے عمدہ نسخہ ہے۔دنیا میں انسان جو گناہ کرتا ہے اس کی اصل جڑ یہی ہے کہ اس نے موت کو بھلا دیا ہے۔جو شخص موت کو یادرکھتا ہے وہ دنیا کی باتوں میں بہت تسلی نہیں پاتا لیکن جو شخص موت کو بھلا دیتا ہے اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور اس کے اندرطول امل پیدا ہوجاتا ہے۔وہ لبی لمبی امیدوں کے منصوبے اپنے دل میں باندھتا ہے۔دیکھنا چاہئے کہ جب کشتی میں کوئی بیٹھا ہو اور کشتی غرق ہونے لگے تو اُس وقت دل کی کیا حالت ہوتی ہے۔کیا ایسے وقت میں انسان گناہگاری کے خیالات دل میں لاسکتا ہے؟ ایسا ہی زلزلہ اور طاعون کے وقت میں چونکہ موت سامنے آجاتی ہے اس واسطے گناہ نہیں کر سکتا اور نہ بدی کی طرف اپنے خیالات کو دوڑا سکتا ہے۔پس اپنی موت کو یا درکھو۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 244-243 مطبوعہ 2010ء) سائل : حضور ! نمازیں پڑھتے ہیں مگر منہیات سے باز نہیں رہتے اور اطمینان حاصل نہیں ہوتا ہے۔حضرت اقدس: ”نمازوں کے نتائج اور اثر توتب پیدا ہوں جب نمازوں کو سمجھ کر پڑھو۔بجز کلام الہی اور ادعیہ ماثورہ کے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اور پھر ساتھ ہی یہ بھی یا درکھو یہی ایک امر ہے جس کی بار بار تاکید کرتا ہوں کہ تھکو اور گھبراؤ نہیں۔اگر استقلال اور صبر سے اس راہ کو اختیار کرو گے تو انشاء اللہ یقینا ایک نہ ایک دن کامیاب ہو جاؤ گے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی کو مقدم کرو اور دین کو دنیا پر ترجیح دو۔جب تک انسان اپنے 123