حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 124 of 148

حقیقتِ نماز — Page 124

حقیقت نماز اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یادر کھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ دین کا نام بھی لے۔۔۔اور ایسا ہی نماز روزہ میں اگر دنیا کو کوئی حصہ دیتا ہے تو وہ نماز روزہ اُسے منزلِ مقصود تک نہیں لے جا سکتا بلکہ محض خدا کے لیے ہو جاوے۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام ۱۶۳) کا سچا مصداق ہوتب مسلمان کہلائے گا۔ابراہیم کی طرح صادق اور وفادار ہونا چاہیے۔جس طرح پر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزوؤں کو جب تک قربان نہیں کر دیتا کچھ نہیں بنتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اُس کو ایک جذبہ پیدا ہو جاوے اُس وقت اللہ تعالیٰ خود اس کا متکفل اور کارساز ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔اگر نقص اور خرابی ہوگی تو ہم میں ہوگی۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 243 مطبوعہ 2010ء) ایک شخص نے عرض کی کہ میرا دل آج کل ایسا ہو رہا ہے کہ نماز میں لذت اور رقت پیدا نہیں ہوتی اور نہایت سخت تکلیف میں رہتا ہوں۔خواہ مخواہ شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر چہ ان کو بہت رڈ کرتا ہوں تاہم وساوس پیچھا نہیں چھوڑتے۔فرمایا : یہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ انسان ایسے وساوس کا مغلوب نہیں ہوتا۔یہ بھی ثواب کی حالت ہے۔نفس کی تین حالتیں ہیں۔ایک تو نفس اٹارہ ہے۔نفس اٹارہ والے کو تو خبر ہی نہیں کہ بدی کیا شے ہے۔دوسر انفس لوامہ ہے جو بدی کرتا ہے پر ہری پر ہمیشہ گھبراتا ہے اور شرمندہ ہوتا ہے اور تو یہ کرتا رہتا ہے۔ایسا شخص نفس کا 124