حقیقتِ نماز — Page 122
حقیقت نماز اور اس کا علاج ہے تو بہ، استغفار، تضرع۔بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آجاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے اور تھکنا مناسب نہیں آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کے لیے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے۔جولوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لیے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لئے استغفار ، کثرت نماز و دعا، مستعدی اور صبر کی ضرورت 66 ہے۔‘ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 310-309 مطبوعہ2010ء) سائل : دعا جب تک دل سے نہ اٹھے کیا فائدہ ہوگا؟ حضرت اقدس : میں اسی لئے تو کہتا ہوں کہ صبر کرنا چاہئے اور اس سے گھبرانا نہیں چاہئے۔خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔کشاں کشاں مسجد میں لے آؤ۔کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر وساوس رہتے ہیں۔اس نے کہا کہ تو نے ایک حصہ پر تو قبضہ کر لیا۔دوسرا بھی حاصل ہو جائے گا۔نماز پڑھنا بھی تو ایک فعل ہے۔اس پر مداومت کرنے سے دوسرا بھی انشاء اللہ مل جائے گا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 241 مطبوعہ 2010ء) ایک شخص نے عرض کہ مجھے نماز میں لذت نہیں آتی۔فرمایا کہ: 122