حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 106 of 148

حقیقتِ نماز — Page 106

حقیقت نماز ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا ، تو وہ پے در پے پیالے پیتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اُس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔یہاں تک کہ اُس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے، جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اُسی سرور کا حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت اُن مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (ھود ۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے، وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے۔انّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود ۱۱۵) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے نما ز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔اُن کی روح مردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوۃ کا لفظ نہیں رکھا۔باوجود یکہ معنے وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نما ز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر 106