حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 107 of 148

حقیقتِ نماز — Page 107

حقیقت نماز ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کوڈ ور کرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔۔۔۔میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے یعنی کہاں نطفہ، بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ، پھر جوان، بوڑھا۔غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اُس کے ذہن میں کھنچا رہے۔تو بھی وہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِ مقابل میں اپنی عبودیت کا ڈال دے۔غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے، اُس کا فیضان اور پر تو اُس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلی درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی رُوح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اُسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔اس وقت خدایتعالی کی محبت اُس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے، جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف عبودیت کا جوش ہوتا ہے، ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی 107