حقیقتِ نماز — Page 105
حقیقت نماز غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور ست اس لیے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا۔اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے ، گویا اُن کے دل دکھتے ہیں یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے۔کھایا ہوا یا درہتا ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یادرہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے، وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ 105