حقیقتِ نماز — Page 99
حقیقت نماز اور خضوع نیک بندوں کے لئے کوئی مخصوص علامت نہیں بلکہ یہ بھی انسان کے اندر ایک قوت ہے جو محل اور بے محل دونوں صورتوں میں حرکت کرتی ہے۔انسان بعض اوقات ایک فرضی قصہ پڑھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فرضی اور ایک ناول کی قسم ہے مگر تا ہم جب اُس کے ایک دردناک موقعہ پر پہنچتا ہے تو اس کا دل اپنے قابو سے نکل جاتا ہے اور بے اختیار آنسو جاری ہوتے ہیں جو تھمتے نہیں۔ایسے دردناک قصے یہاں تک مؤثر پائے گئے ہیں کہ بعض وقت خود ایک انسان ایک پُر سوز قصہ بیان کرنا شروع کرتا ہے اور جب بیان کرتے کرتے اُس کے ایک پُر درد موقعہ پر پہنچتا ہے تو آپ ہی چشم پر آب ہو جاتا ہے اور اس کی آواز بھی ایک رونے والے شخص کے رنگ میں ہو جاتی ہے۔آخر اس کا رونا اچھل پڑتا ہے اور جورونے کے اندر ایک قسم کی سرور اور لذت ہے وہ اُس کو حاصل ہو جاتی ہے اور اُس کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ جس بنا پر وہ روتا ہے وہ بنا ہی غلط اور ایک فرضی قصہ ہے۔پس کیوں اور کیا وجہ کہ ایسا ہوتا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ سوز و گداز اور گریہ وزاری کی قوت جوانسان کے اندرموجود ہے اُس کو ایک واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے سے کچھ کام نہیں بلکہ جب اُس کے لئے ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو اُس قوت کو حرکت دینے کے قابل ہوتے ہیں تو خواہ مخواہ وہ رقت حرکت میں آجاتی ہے اور ایک قسم کا سرور اور لذت ایسے انسان کو پہنچ جاتا ہے گو وہ مومن ہو یا کافر۔اسی وجہ سے غیر مشروع مجالس میں بھی جو طرح طرح کی بدعات پر مشتمل ہوتی ہیں بے قید لوگ جو فقیروں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں مختلف قسم کی کافیوں اور شعروں کے سننے اور سرود کی تاثیر سے رقص اور وجد اور گریہ وزاری شروع کر دیتے ہیں اور اپنے رنگ میں لذت اٹھاتے ہیں۔اور خیال 99