حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 100 of 148

حقیقتِ نماز — Page 100

حقیقت نماز کرتے ہیں کہ ہم خدا کومل گئے ہیں۔مگر یہ لذت اُس لذت سے مشابہ ہے جو ایک زانی کو حرامکار عورت سے ہوتی ہے۔۔۔۔پس وہ لذت سوز وگداز کی ایک لذت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوز و گداز اور اُس کی لذت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اور بتوں اور دیویوں کی پوجا میں بھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذت حرامکاری کے جماع سے مشابہ ہوتی ہے۔غرض مجرد خشوع اور سوز و گداز اور گریہ وزاری اور اس کی لذتیں تعلق باللہ کو مستلزم نہیں بلکہ جیسا کہ بہت سے ایسے نطفے ہیں جو ضائع جاتے ہیں اور رحم اُن کو قبول نہیں کرتا ایسا ہی بہت سے خشوع اور تضرع اور زاری ہیں جو محض آنکھوں کو کھونا ہے اور رحیم خدا اُن کو قبول نہیں کرتا۔غرض حالت خشوع کو جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے نطفہ ہونے کی حالت سے جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے ایک کھلی کھلی مشابہت ہے جس کو ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور یہ مشابہت کوئی معمولی امر نہیں ہے بلکہ صانع قدیم جل شانہ کے خاص ارادہ سے اِن دونوں میں اکمل اور اتم مشابہت ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی لکھا گیا ہے کہ دوسرے جہان میں بھی یہ دونوں لڑتیں ہوں گی مگر مشابہت میں اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ ایک ہی ہو جائیں گی۔یعنی اس جہان میں جو ایک شخص اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرے گا وہ اس بات میں فرق نہیں کر سکے گا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرتا ہے یا محبت الہیہ کے دریائے بے پایاں میں غرق ہے اور واصلانِ حضرت عزت پر اسی جہان میں یہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو اہل دنیا اور مجوبوں کے لئے ایک امر فوق الفہم ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 197-185 مطبوعہ 2021ء) 100