حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 98 of 148

حقیقتِ نماز — Page 98

حقیقت نماز سوز و گداز کی حالت جمع ہو جاتی ہے۔اور یہ عبرت کا مقام ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرد خشوع اور گریہ وزاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ یہ قرب الہی اور تعلق باللہ کی کوئی علامت ہے۔بہت سے ایسے فقیر میں نے بچشم خود دیکھے ہیں اور ایسا ہی بعض دوسرے لوگ بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ کسی دردناک شعر کے پڑھنے یا دردناک نظارہ دیکھنے یا دردناک قصہ کے سننے سے اس جلدی سے اُن کے آنسو گرنے شروع ہو جاتے ہیں جیسا کہ بعض بادل اس قدر جلدی سے اپنے موٹے موٹے قطرے برساتے ہیں کہ باہر سونے والوں کو رات کے وقت فرصت نہیں دیتے کہ اپنا بستر بغیر تر ہونے کے اندر لے جاسکیں لیکن میں اپنی ذاتی شہادت سے گواہی دیتا ہوں کہ اکثر ایسے شخص میں نے بڑے مگار بلکہ دنیا داروں سے آگے بڑھے ہوئے پائے ہیں۔اور بعض کوئیں نے ایسے خبیث طبع اور بددیانت اور ہر پہلو سے بدمعاش پایا ہے کہ مجھے ان کی گریہ وزاری کی عادت اور خشوع و خضوع کی خصلت دیکھ کر اس بات سے کراہت آتی ہے که کسی مجلس میں ایسی رقت اور سوز و گداز ظاہر کروں۔ہاں کسی زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ یہ نیک بندوں کی علامت تھی مگر اب تو اکثر یہ پیرا یہ مگاروں اور فریب دہ لوگوں کا ہو گیا ہے۔سبز کپڑے، بال سر کے لیے، ہاتھ میں تسبیح، آنکھوں سے دمبدم آنسو جاری ، لبوں میں کچھ حرکت گویا ہر وقت ذکر الہی زبان پر جاری ہے اور ساتھ اس کے بدعت کی پابندی۔یہ علامتیں اپنے فقر کی ظاہر کرتے ہیں۔مگر دل مجذوم محبت الہی سے محروم۔الا ماشاء اللہ۔راستبا زلوگ میری اس تحریر سے مستثنی ہیں۔جن کی ہر ایک بات بطور جوش اور حال کے ہوتی ہے نہ بطور تکلف اور قال کے۔بہر حال یہ تو ثابت ہے کہ گریہ وزاری اور خشوع 98