حقیقتِ نماز — Page 37
حقیقت نماز ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور جب روح میں خوشی پیدا ہوتو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ انسان بسا اوقات ہنسنے لگتا ہے۔ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اس درد میں روح بھی شریک ہوتی ہے اور جب جسم کھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو تو روح بھی اس سے کچھ حصہ لیتی ہے۔پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ روح اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے روح میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پیدا ہو اور وہ روحانی قیام اور رکوع اور سجود میں مشغول ہو جائے کیونکہ انسان ترقیات کے لئے مجاہدات کا محتاج ہے اور یہ بھی ایک قسم مجاہدہ کی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جب دو چیزیں باہم پیوست ہوں تو جب ہم اُن میں سے ایک چیز کو اٹھائیں گے تو اُس اٹھانے سے دوسری چیز کو بھی جو اس سے ملحق ہے کچھ حرکت پیدا ہوگی۔لیکن صرف جسمانی قیام اور رکوع اور سجود میں کچھ فائدہ نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ یہ کوشش شامل نہ ہو کہ رُوح بھی اپنے طور سے قیام اور رکوع اور سجود سے کچھ حصہ لے۔“ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 224-223 مطبوعہ 2021ء) ارکان نماز در اصل روحانی نشست و برخاست ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کے رُوبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ آداب اور کمال تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یاداشت کے مقرر کر دیتے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔علاوہ ازیں باطنی طریق کے 37