حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 38 of 148

حقیقتِ نماز — Page 38

حقیقت نماز اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے ) صرف نقال کی طرح نقلیں اُتاری جاویں اور اسے ایک بار گراں سمجھ کو اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے، تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے؟ اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیوں کر متحقق ہوگی اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے، رُوح بھی بولے۔اُس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 105-104 مطبوعہ 2010ء) عبادات کے دو حصے تھے۔ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے۔خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کی رُوح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اُس میں پیدا ہو جاتا ہے۔دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے۔اسی لئے فرمایا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرہ ۱۶۶) اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جاوے۔یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے۔ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے، مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں۔38