حقیقتِ نماز — Page 36
حقیقت نماز سے فائدہ اٹھاؤ کہ جب کوئی دکھ یا مصیبت پیش آسے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاؤ اور جو مصائب اور مشکلات ہوں اُن کو کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرو کیونکہ یقیناً خدا ہے اور وہی ہے جو ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے انسان کو نکالتا ہے۔وہ پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔اس کے سوا کوئی نہیں جو مددگار ہو سکے۔بہت ہی ناقص ہیں وہ لوگ کہ جب اُن کو مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ وکیل، طبیب یا اور لوگوں کی طرف تو رجوع کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا خانہ بالکل خالی چھوڑ دیتے ہیں۔مومن وہ ہے جوسب سے اوّل خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 96-94 مطبوعہ 2010ء) غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مُشتِ خاک کو کیمیا کر دیتی ہے اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھودیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے۔اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے اور روح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کیلئے ہر ایک مصیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے اور اس کار کوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کیلئے ہو جاتی ہے اور اُس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں بکھی کھو دیتی ہے اور اپنے نقش وجود کو مٹادیتی ہے۔یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے اور شریعتِ اسلامی نے اس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے تاوہ جسمانی نماز روحانی نماز کی طرف محرک ہو کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے وجود کی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ روح کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے۔جب تمہاری روح غمگین 36