حقیقتِ نماز — Page 140
حقیقت نماز کے اندر نہیں آتا پس یا درکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسب مراحب ہے ، اور جو شخص اللہ ؛ ورنہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے، اُسے شمار سے کیا کام۔وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لئے ہوئے پھیر رہا ہے۔اُس عورت نے اُس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے۔اس نے کہا کہ میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں۔عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر ؟ در حقیقت یہ بات بالکل بگی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یاد کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔آنحضرت علی نے جو ۳۳ مرتبہ فرمایا ہے وہ آنی اور شخصی بات ہوگی کہ کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اُسے فرما دیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر۔اور یہ تو سیع ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں۔یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔اگر کوئی شخص آنحضرت سلام کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ علیم میرے گھر میں تھے۔رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔مجھے خیال گزرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے۔چنانچہ میں نے سب گھروں التعليم 140