حقیقتِ نماز — Page 139
حقیقت نماز گی۔اب یہ علامت جبکہ پوری ہوگئی اور ایسے واقعات پیش آگئے۔پھر اس کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔نہ کہ استہزاء اور انکار کے رنگ میں۔“ نماز کے بعد تسبیح ملفوظات جلد دوم صفحہ 46-45 مطبوعہ 2010ء) ایک صاحب نے پوچھا کہ بعد نماز تسبیح لے کر ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر وغیرہ جو پڑھا جاتا ہے۔اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ حسب مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ مراتب نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انہوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاں دو احادیث میں باہم اختلاف ہے؛ حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ محل اور موقع کے ہوتی تھی۔مثلاً ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک کر دیا جاوے۔یہی نیکی ہے۔ایسا نہیں۔اسی طرح تسبیح کے متعلق بات ہے۔قرآن شریف میں تو آیا ہے وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (انفال ۴۶) اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرو تا کہ فلاح پاؤ۔اب یہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا نماز کے بعد ہی ہے تو ۳۳ مرتبہ تو کثیر 139