حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 83 of 148

حقیقتِ نماز — Page 83

حقیقت نماز رکھو۔اپنی نماز میں جہاں جہاں رکوع و سجود میں دعا کا موقعہ ہے دعا کرو اور غفلت کی نماز کو ترک کر دو۔رسمی نماز کچھ ثمرات مترتب نہیں لاتی اور نہ وہ قبولیت کے لائق ہے۔نما ز وہی ہے کہ کھڑے ہونے سے سلام پھیرنے کے وقت تک پورے خشوع اور حضور قلب سے ادا کی جاوے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ وزاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جاوے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو۔اگر ایسانہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے۔اس طرح کمال ادب اور محبت اور خوف سے بھری ہوئی نماز ادا کرو۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 177-176 مطبوعہ 2010ء) نماز ایسے ادا نہ کرو جیسے مرغی دانے کے لیے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو۔نماز مشکلات کی کنجی ہے۔ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دعا کیا کرو تا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہوا سے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے۔چاہئے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو۔اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لیے ویسے ہی کھڑا ہو۔اگر جھکو تو دل بھی ویسے ہی جھکے۔اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے۔دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے۔معرفت بھی ایک شئے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے۔جیسے جو شخص سم الفار، سانپ اور شیر کو بلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ اُن کے نزدیک نہیں جاتا۔ایسے جب تم کو 83