حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 79 of 148

حقیقتِ نماز — Page 79

حقیقت نماز بخشتیں اور نہ کوئی سکینت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے۔وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔اس لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا لَن يَنَالَ اللہ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الج ۳۸) یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ مغز چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جولوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیازمندی اور عبودیت پیدا نہیں ہوسکتی جو اصل مقصد ہے اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔اور یہ جوگی اسی قسم کے ہیں۔روح اور جسم کا باہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آہی جائے گا۔اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہیے اسے ہنسی آہی جاتی ہے۔اسی طرح پر نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں۔مثلاً کھڑا ہونا یار کوع کرنا۔اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیازمندی کی حالت دکھاتا ہے۔اسی قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔اگر چہ خدا نرے سجدہ کو قبول نہیں کرتا۔مگر سجدہ کو روح کے ساتھ ایک تعلق ہے۔اس لئے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے۔جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے۔جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔کتے 79