حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 75 of 148

حقیقتِ نماز — Page 75

حقیقت نماز اور نظارہ قدرت الہی دیکھ لے گا تو پھر پیچھا نہ چھوڑے گا۔قاعدہ کی بات ہے کہ تجربہ میں جب ایک دفعہ ایک بات تھوڑی سی آجاوے تو تحقیقات کی طرف انسان کی طبیعت میلان کرتی ہے۔اصل میں سب لذات خدا تعالیٰ کی محبت میں ہیں۔ملعون لوگ ( یعنی جو خدا سے دُور ہیں ) جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ کیا زندگی ہے۔بادشاہ اور سلاطین کی کیا زندگیاں ہیں مثل بہائم کے ہیں۔جب انسان مومن ہوتا ہے تو خود ان سے نفرت کرتا ہے۔“ 66 ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 631 مطبوعہ 2010ء) اللہ تعالی نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے چنانچہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِلى آخره یعنی دعا سے پہلے ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی جاوے۔جس سے اللہ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو، اس لیے فرمایا۔الحمد للہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔رب العلمین۔سب کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا۔الرحمن۔جو بلاعمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔الرّحِیم پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔ہر بدلہ اُسی کے ہاتھ میں ہے نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالی ہی کے ہاتھ میں ہے۔پورا اور کامل موحد تب ہی ہوتا ہے ، جب اللہ تعالی کو مالک یوم الدین تسلیم کرتا ہے۔دیکھو حکام کے سامنے جا کر ان کو سب کچھ تسلیم کر 75