حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 74 of 148

حقیقتِ نماز — Page 74

حقیقت نماز سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ اُن لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اسی جہان میں ہی اُن پر غضب نازل ہوایا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصلی مقصود سمجھ لیا اور راہِ راست کو چھوڑ دیا۔اور اصلی مقصد نماز کا تو دعا ہی ہے اور اس غرض سے دعا کرنی چاہئے کہ اخلاص پیدا ہو اور خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو اور معصیت سے جو بہت بُری بلا ہے اور نامہ اعمال کو سیاہ کرتی ہے طبعی نفرت ہو اور تزکیۂ نفس اور روح القدس کی تائید ہو۔دنیا کی سب چیزوں جاہ وجلال، مال و دولت، عزت و عظمت سے خدا مقدم ہو اور وہی سب سے عزیز اور پیارا ہو اور اس کے سوائے جو شخص دوسرے قصے کہانیوں کے پیچھے لگا ہوا ہے جن کا کتاب اللہ میں ذکر تک نہیں وہ گرا ہوا ہے اور محض جھوٹا ہے۔نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے، کبھی جھکنا اور کبھی 66 سجدہ کرنا پڑتا ہے اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتا وہ پوست پر ہاتھ مارتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 335-334 مطبوعہ 2010ء) نماز پڑھو اور تدبر سے پڑھو اور ادعیہ ماثورہ کے بعد اپنی زبان میں دعائیں مانگنی مطلق حرام نہیں ہے۔جب گدازش ہو تو سمجھو کہ مجھے موقعہ دیا گیا ہے اس وقت کثرت سے مانگو۔اس قدر مانگو کہ اس نکتہ تک پہنچو کہ جس سے رقت پیدا ہو جاوے۔یہ بات اختیاری نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کی طرف سے ترشحات ہوتے ہیں۔اس کو چہ میں اول انسان کو تکلیف ہوتی ہے مگر ایک دفعہ چاشنی معلوم ہوگی تو پھر سمجھے گا۔جب اجنبیت جاتی رہے گی 74