حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 144 of 148

حقیقتِ نماز — Page 144

حقیقت نماز مسلمان وہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔اگر ہم کا فرنہیں ہیں تو وہ گفرلوٹ کر ان پر پڑتا ہے۔ن کو کافر کہنے والا خود کافر ہے۔اس واسطے ایسے لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔پھر اُن کے درمیان جو لوگ خاموش ہیں وہ بھی انہی میں شامل ہیں۔اُن کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ اپنے دل کے اندر کوئی مذہب مخالفانہ رکھتے ہیں جو ہمارے ساتھ بظاہر شامل نہیں ہوتے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 583 مطبوعہ 2010ء) ۱۷ مارچ ۱۹۰۸ کو ایک صاحب علاقہ بلوچستان نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا کہ ”آپ کا ایک مرید نور محمد نام میرا دلی دوست ہے۔وہ بڑا نمازی ہے، نیکو کار ہے، سب اُس کی عزت کرتے ہیں۔ہمہ صفت موصوف خلیق شخص ہے۔دیندار ہے۔اِس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہو گیا ہے کہ حضور بڑے ہی خیر خواہ امت محمدیہ ونڈاح جناب رسول مقبول و اصحاب کبار ہیں۔آپ کو جو بُرے نام سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ وخیال کے نور محمد مذکور ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ یہ بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے ہماری نما زنہیں ہوتی۔آپ اس کو تاکید فرماویں کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے تا کہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں بُرا نہیں کہتے۔“ یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے۔اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز ( حاشیہ سے: یعنی حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ ایڈیر بد ) کے نام تحریر فرمایا: 144