حقیقتِ نماز — Page 135
حقیقت نماز اپنی زبان میں نماز پڑھنا متفرق اہم امور نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں، مگر اصل زبان کو ہر گز نہیں چھوڑ نا چاہیے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔کچھ بھی باقی نہ رہا۔“ فرمایا کہ ملفوظات جلد دوم صفحہ 216 مطبوعہ 2010ء) پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا جاوے تو کیا حرج ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہئے۔اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے۔خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور ادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلیں۔یہ ایک محبت اور تعظیم کی نشانی ہے۔باقی خواہ ساری رات دعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔۔۔عام لوگوں کی نما ز تو برائے نام ہوتی ہے۔صرف نماز کو اثیر تے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دعا میں رجوع کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 656 مطبوعہ 2010ء) 135