حقیقتِ نماز — Page 136
حقیقت نماز سائل : ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نماز اپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیئے۔حضرت اقدس : ”وہ اور طریق ہو گا جس سے ہم متفق نہیں۔قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے۔اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔ہم نے تو ان لوگوں کے لئے دعاؤں کے واسطے کہا ہے جوانی ہیں اور پورے طور پر اپنے مقاصد عرض نہیں کر سکتے۔ان کو چاہئے کہ اپنی زبان میں دعا کرلیں۔“ رکوع و سجود میں قرآنی دعا پڑھنا ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 348 مطبوعہ 2010ء) مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی نے سوال کیا کہ رکوع و سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا : سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ماسوا اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 240 مطبوعہ 2010ء) 66 جمع بین الصلو تین مہدی کی علامت ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے۔فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔136