حقیقتِ نماز — Page 103
حقیقت نماز عورت اور مرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔میں کہتا ہوں حقیقی ، ابدی اور لذت مجسم جو جوڑ ہے وہ انسان اور خدا تعالیٰ کا ہے۔مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزا نہ آئے تو طبیب کے پاس جا تا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامد میں کرتا ہے۔روپیہ خرچ کرتا، دکھ اٹھاتا ہے کہ وہ مزا حاصل ہو۔وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کر سکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خود کشی کے ارادے تک پہنچ جاتا اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔مگر آہ ! وہ مریض دل ، وہ نامراد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذت نہیں آتی ؟ اُس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی ؟ دنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔کس قدر بے نصیب ہے! کیسا ہی محروم ہے! عارضی اور فانی لذتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پالیتا ہے۔کیا ہوسکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں۔مگر تلاش حق میں مستقل اور پو یہ قدم درکار ہیں۔قرآنِ کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔اس میں بھی ستر اور بھید ہے۔ایمان لانے والوں کو مریم اور آسیہ سے مثال دی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔بہر حال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے۔یعنی جس طرح عورت اور مرد کا باہم تعلق ہوتا ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہو تو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید جوڑا ہوتا ہے ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔مرد اور جگہ خراب ہوتا ہے صد با 103