حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 102 of 148

حقیقتِ نماز — Page 102

حقیقت نماز اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا انسان، حظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اُس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اِس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے۔اب اس میں زبردستی نہیں کی، بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں اُن کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں۔مگر اس میں اُن کے لئے ایک حظ ہے اور ایک لذت ہے۔یہ حظ اور لذت اس درجہ تک پہنچتی ہے کہ بعض کو تاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پرواہ اور خیال نہیں کرتے بلکہ اُن کو صرف حظ ہی سے کام اور غرض ہے۔خدا تعالیٰ کی علت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لئے ایک تعلق عورت مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے۔جیسے عورت اور مرد کے باہمی تعلقات میں ایک لذت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہوسکتا ہے جومرد اپنے قومی صحیحہ رکھتا ہے۔ایک نامرد اور محنت وہ حفظ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔102