حقیقتِ نماز — Page 104
حقیقت نماز قسم کی بیماریاں لے آتا ہے۔آتشک سے مجذوم ہو کر دنیا میں ہی محروم ہو جاتا ہے۔اور اگر اولا د ہو بھی جاوے تو کئی پشت تک یہ سلسلہ برابر چلا جاتا ہے اور ادھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزت و آبرو کو ڈبو کر بھی سچی راحت حاصل نہیں کر سکتی۔غرض اس جوڑے سے الگ ہو کر کس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح انسان روحانی جوڑے سے الگ ہو کر مجذوم اور مخذول ہو جاتا ہے۔دنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کا نشانہ بنتا ہے۔جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لیے حفظ ہے۔اسی طرح عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقاء کے لیے حظ موجود ہے۔صوفی کہتے ہیں جس کو یہ حظ نصیب ہو جاوے وہ دنیا و مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اس کو معلوم ہو جاوے تو اس میں ہی فنا ہو جاوےلیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور اُن کی نماز میں صرف ٹکڑیں ہیں اور او پرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے ، جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابلِ عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہو جاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پر ہیز گار کہلاتے ہیں۔پھر اُن کو کیوں یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بیدل کی نماز کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔104