حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 73 of 148

حقیقتِ نماز — Page 73

حقیقت نماز ایک شخص نے سوال کیا کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہئے؟ حضرت اقدس نے فرمایا: موٹی بات ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے اُدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ (الاعراف ۳۰) اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا چاہئے اور اُس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔چاہئے کہ اخلاص ہو۔احسان ہو اور اُس کی طرف ایسا رجوع ہو کہ بس وہی ایک رب اور حقیقی کارساز ہے۔عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اُسی کی عظمت اور اُسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا تعالیٰ سے بہت مانگے اور بہت توبہ استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تا کہ تزکیۂ نفس ہو جاوے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو جاوے اور اُسی کی محبت میں محو ہو جاوے اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورہ فاتحہ میں ہی آ جاتا ہے۔دیکھو اياكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين ( الفاتحہ ۵ ) میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد کے لئے خدا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دعامانگی گئی ہے اور ان انعامات کو حاصل کرنے کے لئے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہی کی اتباع اور انہی کے طریقہ پر چلنے 73