حقیقتِ نماز — Page 65
حقیقت نماز ہے جس میں تضرع اور حضور قلب ہو۔ایسے ہی لوگوں کے گناہ دُور ہوتے ہیں۔چنانچہ فرمایا انَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ - هود ۱۱۵) یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔یہاں حسنات کے معنے نماز کے ہیں اور حضور اور تضرع اپنی زبان میں مانگنے سے حاصل ہوتا ہے۔پس کبھی کبھی ضرور اپنی زبان میں دعا کیا کرو اور بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دعا ہے۔جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا اور کامیاب ہو جاوے گا۔اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراط مستقیم تلاش کرو اور دعا کرو کہ یا الہی میں تیرا گنہگار بندہ ہوں اور اُفتادہ ہوں، میری رہنمائی کر۔ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آجاوے گی۔پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا جو بے مثل کریم ہے کیوں نہ پائے ؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔نماز کا دوسرا نام دعا بھی ہے جیسے فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ - ( مومن ۶۱ ) پھر فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(البقره ۱۸۷) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے۔پس میں بہت ہی قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔اگر یہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز سن کر تم کو جواب دے گا مگر جب وہ دور 65