حقیقتِ نماز — Page 66
حقیقت نماز سے جواب دے گا تو تم بہ باعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور دوری دور ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 176-175 مطبوعہ 2010ء) مولوی سیدمحمودشاہ صاحب نے جو سہارنپور سے تشریف لائے ہوئے ہیں حضرت اقدس امام علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے یہ عرض کیا کہ میں نے آج تحفہ گولڑویہ اور کشتی نوح کے بعض مقامات پڑھے ہیں۔میں ایک امر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔اگر چہ وہ فروعی ہے لیکن پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز نہیں مانگتے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: م صل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں۔اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہی ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لیے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ایک ذوق، انس اور سرور بڑھتا ہے مگر جس طریق پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضورِ قلب کی کوشش کریں جس سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ - 66