حقیقتِ نماز — Page 64
حقیقت نماز میں دیکھتا ہوں کہ آج کل لوگ جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ محض ٹکریں مارنا ہے۔اُن کی نماز میں اس قدر بھی رقت اور لذت نہیں ہوتی جس قدر نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا میں ظاہر کرتے ہیں۔کاش یہ لوگ اپنی دعائیں نماز میں ہی کرتے۔شاید اُن کی نمازوں میں حضور اور لذت پیدا ہو جاتی۔اس لیے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سر دست آپ بالکل نماز کے بعد دعا نہ کریں۔اور وہ لذت اور حضور جو دعا کے لیے رکھا ہے، دعاؤں کو نماز میں کرنے سے پیدا کریں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنی منع ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذت اور حضور پیدا نہ ہو نماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذت کو مت گنواؤ۔ہاں جب یہ حضور پیدا ہو جاوے تو کوئی حرج نہیں۔سو بہتر ہے نماز میں دعائیں اپنی زبان میں مانگو۔جو طبعی جوش کسی کی مادری زبان میں ہوتا ہے وہ ہر گز غیر زبان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔سونمازوں میں قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی ضرورتوں کو برنگ دعا اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے آگے پیش کرو تا کہ آہستہ آہستہ تم کو حلاوت پیدا ہو جائے۔سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جا تا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے “ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 30-29 مطبوعہ 2010ء) نماز اور دعا کے بارے میں نہایت جامع ارشادات نمازوں میں دعائیں اور درود ہیں۔یہ عربی زبان میں ہیں مگر تم پر حرام نہیں کہ نمازوں میں اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگا کرو، ورنہ ترقی نہ ہوگی۔خدا کا حکم ہے کہ نماز وہ 64