حقیقتِ نماز — Page 101
حقیقت نماز نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے ، مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔اُس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا تسبیح اور تہلیل میں مصروف رہے بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزہ نہیں آتا۔دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو۔جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ اُسے تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے، اسی طرح وہ لوگ جو عبادات الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے اُن کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے۔کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کیلئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کیلئے لذت اور سُرور نہ ہو۔لذت اور سُرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذریات ۵۷) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو کیا اُن سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا 101