حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 44
۴۴ اس طرح سر کہ ایک ایسی چیز ہے جس کے استعمال سے کوئی آدمی فوری مر نہیں سکتا۔لکھا ہے کہ مسیح کو جب سر کہ چسا یا گیا تو وہ بڑی آواز سے چلائے اور جان دے دی۔یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی ہر کہ چوسنے سے مرجائے۔لیکن اس کی حقیقت کچھ اس طرح سے دکھائی دیتی ہے کہ اصل میں وہ چیز جس میں اسفنج ڈبویا گیا تھا وہ سر کہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسی دوائی تھی جس کے سونگھنے سے آدمی بے ہوش ہو جاتا ہے۔جس طرح آج کل ایسے مریضوں کو جو تکلیف برداشت نہیں کر سکتے معالج کلوروفارم سنگھا کر بے ہوش کر دیتے ہیں تا کہ تکلیف کا احساس ختم ہو جائے۔اور جب بھی کسی شخص کو کلور و فارم سنگھا دیا جائے خواہ وہ کتنا ہی چلا رہا ہو اور تکلیف سے تڑپ رہا ہو فورا بے ہوش ہو کر مردہ حالت میں نظر آئے گا۔بالکل ایسا ہی مسیح سے ہوا۔وہ شخص جس نے آپ کو اسفنج چسا یا غیر نہیں بلکہ آپ ہی کے ہمدردوں میں سے تھا اور یہ انتظام پہلے ہی کر رکھا گیا تھا کہ جب بھی موقعہ ہاتھ آئے آپ کی تکلیف کو کم کرنے کے لئے آپ کو بے ہوش کر دیا جائے۔پس جیسے ہی آپ درد کی وجہ سے چلائے اور ایلی ایلی لما سبقتنی کی آواز بلند کی تو آپ کو وہ دوائی جس کو بائبل سرکہ کہتی ہے سنگھا کر یا چسا کر آپ کو بے ہوش کر دیا گیا۔یہ وہ دوسرا حربہ تھا جو آپ کو صلیب سے زندہ بچانے کے لئے استعمال کیا گیا کہ آپ کو بے ہوش کر کے دوسروں کے نزدیک مُردہ بنادیا گیا جبکہ آپ زندہ تھے۔ایسا کرنا اسلئے بھی ضروری تھا کہ آپ کو کم سے کم وقت تک صلیب پر رکھنا مقصود تھا تا کہ آپ دوسروں کے نزدیک مُردہ ہو کر جلد صلیب سے اُتار لئے جائیں۔تیسری شہادت اُن کے صلیب سے زندہ اُتارے جانے کی پیلاطس کی حیرانگی ہے کہ جب اُسے یہ اطلاع دی گئی کہ میسیج مر چکے ہیں تو وہ حیران ہوئے جیسا کہ لکھا ہے کہ " جب شام ہو گئی تو اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے ایک دن پہلے ہوتا ہے آرمتیہ کا رہنے والا یوسف آیا جو عزت دار مشیر اور خود بھی خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا۔اور جرات سے پیلاطس کے پاس جا کر یسوع کی لاش مانگی۔اور پیلاطس -: