حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 45
نے تعجب کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا۔اور صوبہ دار کو بلا کر اُس سے پوچھا کہ اُس کو مرے ہوئے دیر ہوگئی۔جب صوبہ دار سے حال معلوم کر لیا تو لاش یوسف کو دلا دی۔“ ( مرقس باب ۲۵ آیت ۴۲ تا ۴۵) اس حوالہ سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ایک تو یہ کہ یوسف پیلاطس کا مشیر تھا اور عززت دار بھی اس طرح وہ خدا کی بادشاہت کا منتظر یعنی مسیح کے مددگاروں میں سے تھا لا زمی بات ہے کہ پیلاطس کے ساتھ مسیح کے معاملہ میں مشورہ میں شامل ہوگا۔اور اسی کے مشورہ سے سارا معاملہ طے پایا ہوگا۔دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ جب یوسف نے پیلاطس سے لاش مانگی تو پیلاطس نے تعجب کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا۔اس کا اظہار تعجب مسیح کے جلد مر جانے پر اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قدر جلد مرجاتا۔پھر اس کا ایسا کہنا اس لئے بھی ضروری نظر آتا ہے کہ تاوہ درباریوں پر اس بات کا اثر چھوڑے کہ میخ مر گیا ہے جبکہ اس نے اس بات کو اور مضبوط کرنے کے لئے صوبہ دار کو بلا کر بھی پوچھا اور اس نے گواہی بھی دی۔جب کسی پروگرام کے تحت کسی کو بچانا مقصود ہو کہ وہ لوگوں کے نزدیک مربھی جائے اور حقیقت میں مرنے بھی نہ دیا جائے تو ایسی باتیں کرنی ہی ہوتی ہیں کہ دوسرے سننے والے ان باتوں پر یقین کر لیں۔اور اس جگہ یہ سب باتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی ہیں کہ (۱) پیلاطس کی بیوی کو خواب کا آنا۔(۲) پیلاطس کا اُسے چھوڑ دینے کا ارادہ کرنا۔(۳) مجبوری ہونے پر اُن یہود کے سامنے اپنے ہاتھ دھونا (۴) سبت سے ایک دن پہلے صلیب کا حکم صادر کرنا (۵) پھر بعد دو پہر مسیح کو صلیب دینا (۶) شام ہونے سے پہلے اُسے اُتار کر لاش دینا (۷) سر کہ چسا کر اُسے بے ہوش کر دینا (۸) موت کی خبر آنے پر اظہار تعجب کرنا (۹) صوبہ دار کو گواہ ٹھہرالینا (۱۰) یوسف کا مشیر خاص ہونا۔(۱۱) یوسف کے سپر دلاش کا کرنا۔یہ سب باتیں اسبات کی شہادت دیتی ہیں کہ مسیح کو زندہ رکھے جانے کا پروگرام بنایا