حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 43 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 43

۴۳ طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسیح صلیب پر تین گھنٹے سے زیادہ نہیں رہے تھے اور آج بار بار کے تجربہ کے بعد یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ کوئی بھی آدمی ہاتھوں اور پیروں میں صرف کیل ٹھونک دینے سے تین چار گھنٹے میں نہیں مرتا۔اور یہ عام بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ کوئی بھی آدمی صرف ہاتھ پیر میں کیل ٹھونک دینے سے کیسے مرسکتا ہے۔اس لئے یہ بات ممکنات میں سے نہیں کہ میسیج صرف کیل ٹھونک کر لٹکائے جانے سے مر گئے ہوں۔جبکہ اس واقعہ صلیب کے درمیان اور بعد میں بعض اور باتیں بھی پیش آئیں جو کہ اُن کے زندہ صلیب سے اُترنے کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں۔اُن کو بھی میں اس جگہ درج کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔بائبل میں لکھا ہے : وو اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا ایلی ايلى لما سبقتنى۔یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔جو وہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے سُن کر کہا۔یہ ایلیا کو پکارتا ہے۔اور فورا اُن میں سے ایک شخص دوڑا اور اسفنج لے کر سر کے میں ڈبویا اور سر کنڈے پر رکھ کر اُسے پسا یا۔مگر باقیوں نے کہا ٹھہر جاؤ۔دیکھیں تو ایلیا اسے بچانے آتا ہے یا نہیں۔پھر یسوع بڑی آواز سے چلایا اور جان دے دی۔“ متی باب ۲۷ آیت ۴۶ تا ۵۰) متی کے اس حوالے سے یہ ثابت ہے کہ مسیح کو جب صلیب پر لٹکنے سے زیادہ تکلیف کا احساس ہوا تو آپ اُونچی آواز سے چلائے اس پر ایک شخص نے ہر کہ میں اسفنج کو ڈبو کر آپ کو چسا یا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا یہود صلیب پر لٹکنے والوں کو سرکہ بساتے تھے؟ ایسا کسی جگہ سے ثابت نہیں۔اگر مسیح کو سر کہ پسا یا گیا تو پھر اُن کے ساتھ دو اور بھی چور صلیب پر لٹکائے گئے تھے اُن کو سر کہ کیوں نہ چسا یا گیا۔؟