حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 41 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 41

چاہتی تھی۔پیلاطس نے باوجود اس کے کہ مسیح کو یہود کے حوالے کر دیا لیکن اس کے لئے ایک پلان یہ بنایا کہ مسیح کو ایسے وقت میں صلیب دی جائے کہ وہ زیادہ دیر صلیب پر نہ رہنے پائیں۔اس زمانہ میں صلیب اس طرح دی جاتی تھی کہ ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونک کر لٹکا دیا جاتا تھا اور آدمی لٹکے لٹکے بھوک پیاس سے مرجاتا تھا اور پھر اُسے صلیب سے اُتار کر اُس کی ہڈیاں توڑ دی جاتی تھیں۔لیکن پیلاطس نے ایسا پلان بنایا کہ ایک تو بہت کم وقت تک صلیب پر رہیں اور پھر اُن کی ہڈیاں بھی نہ توڑی جائیں۔بائبل میں لکھا ہے کہ : وو اور پہر دن چڑھا تھا جب اُنہوں نے اُس کو صلیب پر چڑھایا۔“ ( مرقس باب ۱۵ آیت ۲۵) سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعہ والے دن مسیح کو صلیب پر لٹکا یا گیا تھا اور ان کے صلیب پر لٹکائے جانے کا وقت بائبل سے ثابت ہے کہ پہر دن گزر چکا تھا اور دو پہر آگئی تھی۔اور پھر یہ بھی بائبل سے ثابت ہے کہ مسیح کو جب صلیب پر لٹکایا گیا تھا تو سارے ملک میں اندھیرا چھا گیا تھا اور آندھی آئی تھی اس حوالہ سے بھی مسیح کے صلیب پر لٹکائے جانے کے وقت کی تعیین ہو جاتی ہے جیسا کہ لکھا ہے :- ' دوپہر سے لیکر تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا “ ( متی باب ۲۷ آیت ۴۵) دوسری بات یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کو جن دنوں صلیب دی گئی تھی وہ سردی کے دن تھے جیسا کہ لکھا ہے : نوکر اور پیادے جاڑے کے سبب سے کوئلے دہکا کر کھڑے تاپ رہے تھے اور پطرس بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا “ ( یوحنا باب ۱۸ آیت ۱۸) یہ بات تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کو جن دنوں صلیب پر لٹکایا گیا تھا وہ دن سردی