حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 42 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 42

۴۲ کے تھے اور سردی کے دنوں میں دن چھوٹے اور راتیں بڑی ہوتی ہیں۔اس لحاظ سے اگر دو پہر کا وقت مسیح کو صلیب پر چڑھانے کا قرار پائے تو وہ وقت کم سے کم دواڑھائی بجے کا بنتا ہے کیونکہ انگریزی بائبل میں لکھا ہے :- And it was the third hour, and they crucified him (Mark15-25) یعنی بعد دو پہر تیسرے پہر میں اُن کو صلیب دی گئی اور تیسرا پہر دو بجے کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔اس لحاظ سے مسیح دو پہر سے تیسرے پہر تک صلیب پر رہے اور سردی کے دنوں میں دن شام کو پانچ ساڑھے پانچ یا زیادہ سے زیادہ چھ بجے غروب ہوتا ہے اس طرح مسیح کا صلیب پر لٹکے رہنے کا وقت اڑھائی سے تین گھنٹے بنتا ہے۔کیونکہ آندھی کی وجہ سے اندھیر ابھی چھایا ہوا تھا۔اس لئے لکھا ہے کہ :- وو " پس چونکہ تیاری کا دن تھا یہودیوں نے پلاٹس سے درخواست کی کہ اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اتار لی جائیں تا کہ سبت کے دن صلیب پر نہ رہیں کیونکہ وہ سبت ایک خاص دن تھا۔“ (یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱) ایک جگہ لکھا ہے شام کی طرح کا اندھیرا بھی ہو گیا تھا اور سورج کی روشنی جلد جاتی رہی تھی لکھا ہے :- " پھر دو پہر کے قریب سے تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا۔اور سورج کی روشنی جاتی رہی اور مقدس کا پردہ بیچ میں سے پھٹ گیا۔“ (لوقا باب ۲۳ آیت ۴۵،۴۴) ان حوالوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کو شام کے وقت ہی صلیب سے اُتار لیا گیا تھا تا کہ سبت کا دن شروع ہونے سے یہود گناہ گار نہ ٹھہریں کیونکہ سبت کے دن کسی کو صلیب پر رکھنا جائز نہ تھا۔اور سبت کا دن شام پڑنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔اس