حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 40
کہ اُنہوں نے اُس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔اور جب وہ تخت عدالت پر بیٹھا ہوا تھا تو اُس کی بیوی نے اُسے کہلا بھیجا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ۔کیونکہ میں نے آج خواب میں اس کے سبب سے بہت دکھ اُٹھایا ہے۔لیکن سردار کاہنوں اور بزرگوں نے لوگوں کو اُبھارا کہ برابا کو مانگ لیں اور یسوع کو ہلاک کرائیں۔حاکم نے ان سے کہا ان دونوں میں سے کس کو چاہتے ہو کہ تمہاری خاطر چھوڑ دوں؟ وہ بولے برابا کو پیلاطس نے ان سے کہا۔پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟ سب نے کہا کہ اُس کو صلیب دی جائے۔اُس نے کہا۔کیوں اُس نے کیا بُرائی کی ہے؟ مگر وہ اور بھی چلا چلا کر بولے کہ اُس کو صلیب دی جائے۔جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلوا ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا میں اس راستباز کے خون سے بری ہوں تم جانو۔“ متی باب ۲۷ آیت ۱۷ تا ۲۴) نیز دیکھیں۔لوقا باب ۲۳ آیت ۲۰ کہ :- " مگر پیلاطس نے یسوع کے چھوڑنے کے ارادے سے پھر ان سے کہا لیکن وہ چلا کر بولے کہ اس کو صلیب دے صلیب۔“ سب سے پہلی بات بائبل سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ پیلاطس مسیح کو راستباز خیال کرتا تھا اس لئے وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کو صلیب دی جائے۔جبکہ اُس کی بیوی نے بھی یہ کہا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ میں نے آج خواب میں اس کے سبب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے۔اس لئے وہ بھی چاہتی تھی کہ مسیح صلیب پر نہ چڑھائے جائیں۔لیکن بلوائیوں کے سامنے جب پیلاطس مجبور ہو گیا تو پھر اُس نے اپنی بریت کا اعلان اس طرح کیا کہ پانی منگوا کر اپنے ہاتھ دھوئے۔اور کہا کہ میں اس راستباز کے خون سے بری ہوں۔پیلاطس حاکم تھا وہ بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ مسیح صلیب پر مر جائیں اور نہ ہی ان کی بیوی