حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 33 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 33

۳۳ شاگردوں کو بھی آپ بار بار دُعا کے لئے کہتے رہے اور یہ ایک ایسے موقعہ کی دُعا ہے کہ اس قدر الحاح کے ساتھ آپ نے اور کسی معاملہ میں اس قدر زور سے دُعا نہیں کی اگر کوئی مسیحی اس دُعا کے بالمقابل کسی اور موقعہ کی دُعا میں اس سے زیادہ شدت اور زور اور الحاح اور درد دکھائے گا تو وہ انعام کا مستحق ہوگا۔حضرت مسیح پر یہ مشکل گھڑی صلیب پر چڑھائے جانے کی گھڑی تھی اور آپ اس صلیبی موت سے بچنے کے لئے بار بار دعا کرتے تھے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ :- اس وقت یسوع اُن کے ساتھ گستمنے نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ میں وہاں جا کر دُعا مانگوں۔اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیکر غمگین اور بے قرار ہونے لگا۔اُس وقت اُس نے اُن سے کہا۔میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دُعا مانگی۔اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔پھر شاگردوں کے پاس آکر انہیں سوتے پایا اور پطرس سے کہا کیوں تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے۔جاگو اور دُعا مانگو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو۔روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔پھر دوبارہ اُس نے جا کر یہ دعا مانگی۔اے میرے باپ اگر یہ میرے پنے بغیر نہیں مل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو۔اور آکر انہیں پھر سوتے پایا۔کیونکہ اُن کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھیں۔اور انہیں چھوڑ کر پھر چلا گیا اور وہی بات پھر کہہ کر تیسری بار دعا مانگی۔تب شاگردوں کے پاس آکر اُن سے کہا۔اب سوئے رہو اور آرام کرو۔دیکھو وقت آپہنچا ہے اور ابن آدم گنہ گاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جاتا ہے۔اُٹھو چلیں دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے“ متی باب ۲۶ آیت ۳۶ تا ۴۶)