حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 32 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 32

پس کفارہ کا عقیدہ رکھنا عقل اور بائبل کی تعلیمات اور فعلی شہادت کے لحاظ سے محض ایک مفروضہ اور فطرت کے لئے ناقابل قبول عقیدہ ہے۔مسیح اور دُعا دُعا اپنے اندر اثر رکھتی ہے اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔پھر جس قدر کوئی خدا کا زیادہ پیارا ہو اُس کی دُعا بھی زیادہ قبول کی جاتی ہے۔یہ عقیدہ کہ دُعائیں سنی جاتی ہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مسلمہ عقیدہ ہے۔چنانچہ اس بات کو پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں : " یسوع نے جواب میں اُن سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر ایمان رکھو اور شک نہ کرو۔تو نہ صرف وہ کرو گے جو انجیر کے درخت کے ساتھ ہوا بلکہ اگر اس پہاڑ سے بھی کہو کہ تُو اُکھڑ جا اور سمندر میں جا پڑ تو یہ ہو جائے گا اور جو کچھ دُعا میں ایمان کے ساتھ مانگو گے وہ سب تمہیں ملے گا۔“ (متی باب ۲۱ آیت ۲۱، ۲۲) اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ ایمان کے ساتھ مانگی ہوئی دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔اور قرآن بھی اور دیگر مذہبی کتب بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔بائبل کے مطالعہ سے ایک بات کا ہمیں علم ہوتا ہے کہ مسیح نے بھی مشکل گھڑی میں دُعائیں کی ہیں اور ضرور ہے کہ وہ سُنی بھی گئی ہونگی اور پھر بائبل اس کی گواہی بھی دیتی ہے کہ ضرور سنی جاتی ہیں۔حضرت مسیح نے ایک مشکل وقت میں خاص دُعا کی نہ صرف خود کی بلکہ ا پنے