حمد و مناجات — Page 105
105 جناب چوھدری شبیر احمد صاحب ہر دم از کارخ عالم آوا زیست که یکش بانی و بنا سا زیست ( در سیمین فارسی ) ترجمہ: یہ نظام عالم اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس جہان کا کوئی بانی اور صانع ہے۔1 کون و مکاں سے آتی ہے ہر دم یہی صدا صانع کوئی ضرور ہے اس کائنات کا بنیاد ہی بتاتی و نہار اور مہ و سال کا نظام معمار کے وجود تعمیر دلیل ہے ہے بانی کا مرتبہ لیل اک ذره حقیر ہوتی کرتا ہے ہم کو قادر مطلق سے آشنا تا نیر فلک ہے ایک ذات پر ہی شئی کی انتہاء بادل کی گھن گرج ہو یا نغمہ نسیم کا تسبیح کا طریق ہے گویا جدا شادابی چمن سے عیاں ہے سے عیاں ہے کسی کا ہاتھ جدا اس کا جمال وحسن ہے اک عکس یار کا