حمد و مناجات — Page 104
104 جناب شیخ رحمت اللہ شاکر صاحب ہے خدائے دوالمین ہی کارساز و کردگار دَر اُسی کا کھٹکھٹا ہر حال میں اُس کو پکار وسعتیں اس کے بیاں الفاظ کر سکتے نہیں اس کی رحمت کا سمندر تو ہے نا پیدا کنار اس کے آگے گڑ گڑا آنسو بہا فریاد کر یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار ناؤ ہے کمزور اور بادِ مخالف تند و تیز اس کی رحمت سے مگر ساحل سے ہوگی ہم کنار وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر آج ہیں دنیا کے ہر گوشے میں اسکے جانثار بن گئی نازک سی کو نیل ایک بار آور درخت اسکی پامالی کو گو طوفان اٹھے بار بار موسم گل کا سماں ہر وقت اس گلشن میں ہے پھول تازہ اس میں کھلتے ہیں خزاں ہو یا بہار ابتدا سے آج تک زوروں پہ ہے باد سموم با وجود اسکے وہ ہے سرسبز اور بابرگ و بار اس کی شاخیں چار سو عالم میں ہیں سایہ فگن ڈالی ڈالی دے رہی ہے خوش نما شیر میں ثمار جاگزیں اس کی جڑیں ہیں سارے شرق و غرب میں سوچ، انسان کا ہے یا خدائی کاروبار (الفضل 9 دسمبر 1997ء)